Chor bazar se cheeze kharidna kesa

سُوال : چور بازار سے چیزیں خریدنا کیسا؟ Chor bazar se cheeze kharidna kesa فتاویٰ,عقائد،فتاویٰ،دار الافتاء اہلسنت,

سُوال :
چور بازار سے چیزیں خریدنا کیسا؟ (واٹس ایپ کے ذَریعے سُوال)  

جواب : اگر واقعی وہاں چوری کیا ہوا مال بِک رہا ہو تو اس کا خریدنا حرام ہے بلکہ اگر ظَنِّ غالِب بھی ہو کہ یہ چوری کا مال ہے تب بھی اسے خریدنا ناجائز ہے ۔ ہو سکتا ہے وہاں چوری کیا ہوا مال ہی بِکتا ہوجبھی تو اس کو چور بازار کہا جا رہا ہے ۔ اعلیٰ حضرت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں : چوری کا مال دانِستہ (یعنی جان بوجھ کر ) خریدنا حرام ہے بلکہ اگر معلوم نہ ہو مَظْنُوْن (یعنی مشکوک)ہو جب بھی حرام ہے ۔  

(فتاویٰ رضویہ، ۱۷ / ۱۶۵ رضا فاؤنڈیشن مَرکز الاولیا لاہور)

Comments

Popular posts from this blog

بسم اللہ کی نحوی ترکیب اور صرفی تحقیق

صلح کرانے کی فضیلت و اہمیت | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل مضمون

موبائل فون کے فوائد و نقصانات ایک متوازن تجزیہ